ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بابری مسجد پر آرڈی ننس سپریم کورٹ کی خلاف ورزی ہوگی، مسجد کی زمین سے دست برداری کا سوال ہی نہیں اٹھتا: بنگلور میں مولانا ولی رحمانی کا بیان

بابری مسجد پر آرڈی ننس سپریم کورٹ کی خلاف ورزی ہوگی، مسجد کی زمین سے دست برداری کا سوال ہی نہیں اٹھتا: بنگلور میں مولانا ولی رحمانی کا بیان

Mon, 24 Dec 2018 21:38:29    S.O. News Service

بنگلورو:24 ؍دسمبر(ایس او  نیوز)بابری مسجد کے متعلق مرکزی حکومت کی طرف سے آرڈیننس لانے کی کوئی بھی کوشش سپریم کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔مرکزی حکومت کی طرف سے ایسے کسی آرڈیننس کی صورت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنی قانونی چارہ جوئی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوگا۔یہ بات آج آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی نے بتائی۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک بابری مسجد پر آرڈیننس لانے کا تعلق ہے یہ خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ مرکزی حکومت رواں پارلیمانی اجلاس کے فوراً بعد یہ قدم اٹھا سکتی ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ آرڈی ننس کسی غیر معمولی صورتحال کے لئے لایا جاتا ہے۔اور وہ بھی اس شرط پر کہ پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں چل رہا ہو۔اور ایسی صورت میں حکومت کسی امر کو قانونی شکل دینا چاہتی ہو۔لیکن بابری مسجد کا مسئلہ اچانک پیدا نہیں ہواہے۔اس پر سپریم کورٹ میں طویل عرصے سے سماعت جاری ہے۔ایسے میں قانوناً اس موضوع پر آرڈی ننس لانے کی گنجائش موجود نہیں ہے، لیکن اکثریہ دیکھا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے کبھی کسی قانون کی پاسداری نہیں کی ہے۔اسی لئے اس معاملہ میں بھی اس سے قانون کی پاسداری کی امید کم ہی ہے۔

اس سوال پر کہ مرکزی حکومت نے اگر آرڈی ننس جاری کربھی دیا تو بورڈ کا موقف کیا ہوگا۔مولانا نے ولی رحمانی نے بتایا کہ اس مسئلے پر بورڈ سپریم کورٹ سے فوری طور پر رجوع ہوگا اور بورڈ کے وکیلوں کے ذریعہ یہ نشاندہی کی جائے گی کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے جو اسٹے آرڈر دیا ہے اس کی رو سے حکومت ایسا کوئی آرڈی ننس نہیں لاسکتی اور اگر لاتی ہے تو یہ توہین عدالت کے مترادف ہوگا۔اسی لئے بورڈ کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے گزارش کی جائے گی کہ ترجیحی بنیاد پر آرڈی ننس کی صورت میں بورڈ کی طرف سے دائر کی جانے والی عرضی کی سماعت کی جائے۔

ایودھیا میں دوبارہ دسمبر 1992جیسے حالات پیدا کرنے کے لئے بعض فرقہ پرست تنظیموں اور بی جے پی کی کوششوں کے متعلق ایک سوال پر مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ اس معاملے میں ایک خوش آئین امر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ فرقہ پرست جماعتیں اپنے حق میں اتنے لوگوں کو شامل نہ کرپائیں جتنے 1992 میں ہوسکے تھے۔حالانکہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 25 نومبر کو اجودھیا میں 10 لاکھ لوگوں کو یکجا کیا جائے گا۔لیکن اتنے لوگ وہاں جمع نہیں ہوپائے۔اس کے علاوہ نظم وضبط برقرار رکھنے کی ذمہ دار چونکہ حکومت کی ہے اسی لئے وہاں پر جو حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے وہ غیر معمولی رہے۔انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست تنظیموں کے طرف سے سماج کو گمراہ کرنے کی کوشش ہر طریقے سے کی گئی ، لیکن اس بار سماج نے ان کی کوششوں کو قبولیت نہیں دی۔حالات پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مسلسل نظر رہی۔فرقہ پرست تنظیموں کی تمام سرگرمیاں گزر جانے کے بعد بورڈ نے راحت کی سانس لی۔

بعض حلقوں سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس مشورے پر کہ بابری مسجد کی زمین سے دست برداری اختیا رکرلی جائے اور کوئی مصالحتی فارمولہ اپنایا جائے۔مولانا ولی رحمانی نے ایسی کسی بھی صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصالحت سے مراد قربانی دونوں طرف سے ہونی چاہئے ۔یہاں جو مصالحت کی بات کی جارہی ہے اس میں صرف ایک فریق سے قربانی مانگی جارہی ہے۔اسے مصالحت نہیں قرار دیا جاسکتا۔انہوں نے اس سلسلے میں آرٹ آف لیونگ کے سربراہ روی شنکر گرو جی کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مصالحت کی جو تجویز رکھی ہے وہ بھی یکطرفہ ہے۔اسے کیونکہ قبول کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرستی کے الگ الگ چہرے ہیں۔کچھ چہرے نرمی سے بات کرتے ہیں اور کچھ گرم جوشی دکھاتے ہیں۔روی شنکر کا شمار وہ انہیں چہروں میں کرتے ہیں۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے جاری اصلاح معاشرہ مہم کے متعلق مولانا نے کہا کہ بورڈ اس مہم کو جاری رکھے ہوئے آنے والے دنوں میں صوبائی سطح کی کمیٹیاں تشکیل دینے کا عمل آگے بڑھایا گیا ہے تاکہ اس کام کو اور شدت کے ساتھ انجام دیا جاسکے۔


Share: